ٹھگز آف پاکستان کی کہانی (برام

ٹھگز آف پاکستان کی کہانی
(برائے خصوصی توجہ *وزیراعظم،چیف آف آرمی سٹاف،چیف جسٹس آف پاکستان،تمام ایجنسیوں کے سربراہان*)

وہ سیالکوٹ کا رہائشی تھا اور فیصل آباد ایگریکلچرل یونیورسٹی میں ایک درمیانے درجے کا سٹوڈنٹ تھا۔کلاس میں عمومی طور پر بیک بینچر رہتا تھالیکن جب ٹیچر کوئ نصابی سوال پوچھتا تو ایسی خوبصورتی سے جواب دیتا کہ جواب غلط ہونے کے باوجود ٹیچر اسکی سرزنش نہ کر پاتا۔ بلا کا ڈپلومیٹک اور چرب زبان تھاجسکا فائدہ اسکے ہم عصر اٹھاتے تھے۔ اسکی کامیابی کا سب سے بڑا حربہ ٹیچرز اور غیر نصابی عملے کی خوشامد کرنا تھا جس پہ اسکے کلاس فیلوز Classfellows اسکو *ٹی سی بوائے* کا نام دیتے تھے۔ اس وقت کوئی نہیں جانتا تھا کہ اسکی یہی خصوصیت اسے مستقبل میں پاکستان کا کامیاب ترین شخص بنا دے گی۔
نوکریوں اور اقتدار کی راہداریوں میں گول گول گھومتے یہ نابغہ شخصیت 2003 میں اپنی انہی سکلز کی بدولت ملک کی ایک مضبوط اور خوشحال ترین این جی او ،*ایس ڈی پی آئ *SDPI* میں ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی سیٹ پہ متمکن ہو جاتا ہے،اور پھر اقتدار اور طاقت کے سانپ اور سیڑھی کھیل میں چار سال کے عرصہ میں ہی اسی ادارے کی اعلیٰ ترین سیٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی سیٹ پہ براجمان ہو جاتا ہے۔ یہ مختصر ترین عرصے میں ایک عمومی درجے اور ذہانت کے حامل شخص کے لئے مملکت پاکستان میں کامیاب ترین ہدف سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس چالاک اور زیرک سیالکوٹی منڈے کی کامیابیوں کا سفر ابھی جاری رہنا تھا۔2007 سے 2021 تک یہ سفر بلا شرکت غیرے اور بنا روک ٹوک کے اس اہم ادارے کی سربراہی کا چودہ سال سے جاری ہے اور محض یہ ایک نوکری تک محدود نہ ہے بلکہ اس اہم پالیسی ساز ادارے میں اپنے عزیزوں،رشتہ داروں سمیت دور پار ہدف تک مار کرنے والی اصناف نازک سے لے کے ٹھیکوں،پلازوں،پراپرٹی اور اپنے اثاثہ جات کو مختلف ممالک میں پھیلا نے تک محیط ہے۔
اہل علم اور ایل دانش کہانی یہاں تک سن کر سمجھ چکے ہوں گے کہ کسی اور کی نہیں بلکہ اسی نابغہ شخصیت کی بات ہورہی ہے جو شہر اقتدار میں اپنی ہنر مندیوں اور چالاکیوں کے باعث *نوسر بازوں کا سردار* مشہور ہے اور جسکا نام *ڈاکٹر عابد سلہری* المعروف *ڈاکٹر طوطی* کے نام سے لوگ جانتے ہیں اور جو پارلیمانی لیڈروں اور اقتدار بخش اشخاص کو *’غیر پارلیمانی’ طریقوں سے خریدنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے*۔
کہانی کو یہاں تک بیان کرنے کے بعد اس مضمون کے ذریعے ملک کے حقیقی خیر خواہ کسی *ذاتی بغض اور عناد کی بنیاد پہ نہیں*،بلکہ ملکت خدادا کی جڑیں کھوکھلی کرنے والی بنیاد پہ ، ,*اس ‘ماہراور ہنر مند’ ہستی کی بابت چیف آف آرمی سٹاف،چیف جسٹس آف پاکستان اور تمام حساس آئین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان سے نوحہ کناں ہیں* کہ جہاں نواز شریف،زردای سمیت تمام سیاستدانوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے،وہاں اس قسم کے پالیسی ساز اداروں کے سربراہان بارے بھی کچھ تحقیق کر لیں کہ کہیں ملک کی اکانومی کی بربادی،ڈالر کی اڑان،مہنگائ کا عروج اور *FATF* کے آگے پاکستان کی گزشتہ دس سے یرغمالی حیثیت کی وجہ میں ایسے اداروں کی پالیسی سازی کا معتدبہ حصہ تو نہیں ہے ؟؟
موصوف نہ صرف اس ادارے کی سربراہی کا گزشتہ کئی ادوار حکومت سے شرف رکھتے ہیں بلکہ اکنامک ایڈوائزری *Economic Advisory* کمیٹی کے رکن کی بھی ایک طویل مدت سے نشست رکھتے ہیں جہاں ملکی اکانومی کے حوالے سے اہم ترین پالیسی معاملات طے کیے جاتے ہیں۔ حساس اداروں کی تمامتر توجہ غیر ملکی جاسوسوں تک تو مرکوز رہتی ہے لیکن پاکستان کے اداروں میں لگے ایسے *کلبھوشن یادیوں*
*Kulbhushan Jadhav* کی جانب نہ جانے کیوں نہیں جاتی جن کے ڈانڈے سیدھے سیدھے پڑوسی دشمن ملک سے ملتے ہیں اور جیسے کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں اپنے ہی ملک کے لیڈر اور نام نہاد ماہرین ہائبرڈ وار کا ایندھن بنے ہیں اسی طرح ملک کی اکانومی کا بیڑہ غرق کرنے میں ڈاکٹر طوطی ایسے ماہرین نےکتنی خوبصورتی سے اپنا کردار ادا کیا ہے؟
*ڈاکٹر طوطی* ہمیشہ سے ہی انڈیا سے ٹریڈ Trade کے حق میں تحریری پالیسی بیان دیتے رہے ہیں اور یہ رہکارڈ پر موجود ہے کہ موصوف انڈیا سے آٹا،چینی،ٹماٹر،پیاز اور دیگر اجناس منگوانے کے سب سے بڑے وکیل رہے ہیں۔
*تحقیقاتی ایجنسیاں جنکے فیصلہ ساز افسران کو قابو رکھنے کا ڈاکٹر موصوف کماحقہ تجربہ رکھتے ہیں*،اگر اپنی تحقیق کا رخ ڈاکٹر طوطی کی طرف کرتے ہوئے انکی منجی تھلے ڈانگ پھیریں تو ان کو پتہ چلے کہ ملک میں پچھلے کئ دہائیوں سے زرعی ماہرین کی بھر پور کوشش کے باوجود اصلی بیج اور نمبر ون کھاد منگوانے میں ناکام رہے ہیں تو اسکی وجہ کیا ہے ؟؟ *ملک میں عرصہ دراز سے ناقص بیج اور دو نمبر کھاد* کی ترسیل نے زرعی پیداوار کو ایک خاص حد سے آگے بڑھنے ہی نہ دیا ہے اور پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ گندم ،چینی اور دیگر اجناس منگوانے پہ خرچ کر دیتا ہے اور ڈوبتی اکانومی مزید زبوں حالی کا شکار ہو رہی ہے۔ تحقیق کرنے پہ معلوم پڑ جائے کہ اس پالیسی کا برین چائلڈ* *Brain Child* ڈاکٹر موصوف ہی ہیں۔
اندریں حالات ایل علم و دانش اور سنجیدہ اور *مخلص Journalists & Economists* اپنی نجی محافل میں مقتدر حلقوں تک اپنی آواز پہنچانے کے چیخ و پکار کر رہے کہ خدارا ملکی پالیسی ساز ایسے اہم اداروں سے ایسے *دو نمبر ماہرین کو فی الفور نکال باہر کیا جائے* اور ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے ایسے دوست نما دشمن عناصر کا نام *ای سی ایل ECL* میں ڈالتے ہوئے *انکے اثاثہ جات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے* اور انکو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اس سے *پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور اس ہائبرڈ وار میں دشمن کاری وار لگاتے ہوئے پاکستان کو یونان میں بدلنے* میں کامیاب ہو جائے۔

منجانب
Senior Faculty Members
يونيورسٹي آف ايگريکلچر ( فيصل آباد )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *