تین نوجوان ملک سے باھر سفر پر جاتے ھیں

🍀 تین نوجوان ملک سے باھر سفر پر جاتے ھیں اور وھاں ایک ایسی عمارت میں ٹھہرتے ھیں جو 75 منزلہ ھے..
🍀 ان کو 75 ویں منزل پر کمرہ ملتا ھے..
🍀 ان کو عمارت کی انتظامیہ باخبر کرتی ھے کہ یہاں کے نظام کے مطابق رات کے 10 بجے کے بعد لفٹ کے دروازے بند کر دیے جاتے ھیں
🍀 لھذا ھر صورت آپ کوشش کیجیے کہ دس بجے سے پہلے آپ کی واپسی ممکن ھو
🍀 کیونکہ اگر دروازے بند ھوجائیں تو کسی بھی کوشش کے باوجود لفٹ کھلوانا ممکن نہ ھوگا..
🍀 پہلے دن وہ تینوں سیر و سیاحت کے لیے نکلتے ھیں تو رات 10 بجے سے پہلے واپس لوٹ آتے ھیں

🍀 مگر دوسرے دن وہ لیٹ ھوجاتے ھیں..
🍀 اب لفٹ کے دروازے بند ھو چکے تھے..

🍀 ان تینوں کو اب کوئی راہ نظر نہ آئی کہ کیسے اپنے کمرے تک پہنچا جائے جبکہ کمرہ 75 منزل پر ھے..

🍀 تینوں نے فیصلہ کیا کہ سیڑھیوں کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ تو نہیں ھے تو یھاں سے ھی جانا پڑے گا..

🍀 ان میں سے ایک نے کہا..
” میرے پاس ایک تجویز ھے..
🍀 یہ سیڑھیاں ایسے چڑھتے ھوئے ھم سب تھک جائیں گے..
🍀 ایسا کرتے ھیں کہ اس طویل راستے میں ھم باری باری ایک دوسرے کو قصے سناتے ھوئے چلتے ھیں..
🍀 25 ویں منزل تک میں کچھ قصے سناوں گا
اس کے بعد باقی 25 منزل تک دوسرا ساتھی قصے سنائے گا
اور پھر آخری 25 منزل تیسرا ساتھی..
🍀 اس طرح ھمیں تھکاوٹ کا زیادہ احساس نہیں ھوگا اور راستہ بھی کٹ جائے گا.. ”
🍀 اس پر تینوں متفق ھوگئے..
🍀 پہلے دوست نے کہا..
” میں تمہیں لطیفے اور مذاحیہ قصے سناتا ھوں جسے تم سب بہت انجوائے کروگے..
🍀 ” اب تینوں ھنسی مذاق کرتے ھوئے چلتے رھے..

🍀 جب 25 ویں منزل آگئی تو دوسرے ساتھی نے کہا..
” اب میں تمہیں قصے سناتا ھوں مگر میرے قصے سنجیدہ اور حقیقی ھونگیں.. ”
🍀 اب 25 ویں منزل تک وہ سنجیدہ اور حقیقی قصے سنتے سناتے ھوئے چلتے رھے..
🍀 جب 50 ویں منزل تک پہنچے تو تیسرے ساتھی نے کہا..
” اب میں تم لوگوں کو کچھ غمگین اور دکھ بھرے قصے سناتا ھوں.. ”
🍀 جس پر پھر سب متفق ھوگئے اور غم بھرے قصے سنتے ھوئے باقی منزلیں بھی طے کرتے رھے..
🍀 تینوں تھک کر جب دروازے تک پہنچے تو تیسرے ساتھی نے کہا..
” میری زندگی کا سب سے بڑا غم بھرا قصہ یہ ھے کہ ھم کمرے کی چابی نیچے استقبالیہ پر ھی چھوڑ آئے ھیں.. ”
🍀 یہ سن کر تینوں پر غشی طاری ھوگئی..
🍀 اگر دیکھا جائے تو ھم لوگ بھی اپنی زندگی کے 25 سال ھنسی مذاق ‘ کھیل کود اور لہو و لعب میں گزار دیتے ھیں..
🍀 پھر باقی کے 25 سال شادی ‘ بچے ‘ رزق کی تلاش ‘ نوکری جیسی سنجیدہ زندگی میں پھنسے رھتے ھیں..
🍀 اور جب اپنی زندگی کے 50 سال مکمل کر چکے ھوتے ھیں تو زندگی کے باقی آخری سال بڑھاپے کی مشکلات ‘ بیماریوں ‘ ھوسپٹلز کے چکر ‘ بچوں کے غم اور ایسی ھی ھزار مصیبتوں کے ساتھ گزارتے ھیں..
🍀 یھاں تک کہ جب موت کے دروازے پر پہنچتے ھیں تو ھمیں یاد آتا ھے کہ “چابی” تو ھم ساتھ لانا ھی بھول گئے..
🍀 رب کی رضامندی کی چابی..
🍀 جس کے بغیر یہ سارا سفر ھی بےمعنی اور پچھتاوے بھرا ھوگا..
🍀 اس لیے اس سے پہلے کہ آپ موت کے دروازے تک پہنچیں ‘ اپنی چابی حاصل کرلیں.
اپنے رب سے رابطہ مضبوط کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *